انسان کے لالچ کا عروج اور دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ کا ظہور Climax of the Human Greed and the Appearance of Gold Mountain

nomadthoughtsofeast greed gold

nomadthoughtsofeast greed gold

جس سال کے متعلق اسلام سے ماخوذ علم آخرالزماں میں معلومات مہیا ہیں کہ اس سال سے قیامت کی بڑی علامات کا ظہور شروع ہوگا، اس سال کی پہلی نشانیوں میں دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ کا ظاہر ہونا ہے۔ احادیث مبارکہ میں حکم ہے کہ جو  بھی اس سونے کے پہاڑ کے پاس موجود ہو، وہ اس سے کچھ نہ لے۔ لیکن احادیث مبارکہ کے مطابق ہوگا اس کے برعکس، کیونکہ اس سونے کے لالچ میں مشرق وسطیٰ کا علاقہ ایک بہت ہی بڑے میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس لڑائی اور فساد میں دو تہائی لوگ جان سے جائیں گے۔ 

جوں جوں زمانہ آگے کی طرف جا رہا ہے توں توں لوگوں میں ریا کاری اور لالچ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ لوگ بظاہر بہت ہی نیک پاک اعمال کرتے ہیں لیکن دلوں میں دنیا اور دنیاوی متاع کے لالچ رسے بسے ہیں۔ دریائے فرات کا بڑا حصہ عراق، شام اور ترکی کے درمیان بہتا ہے جہاں ترکی و دیگر ممالک نے بہت بڑے بڑے ڈیم تعمیر کر کے پانی کا ذخیرہ کر لیا ہے۔ سو غالب گماں یہی ہے کہ کوئی بڑا ڈیم کسی وجہ سے ٹوٹ جائے اور بہت سا پانی بہہ جانے کی وجہ سے دریائے فرات کا پانی خشک ہوجائے اور اس میں سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے۔ 

اس زمانے میں لوگ بظاہر مسلمان ہونگے لیکن ان کا اصل دین اور مذہب دنیاوی مال و دولت ہوگا، سو وہ نبی آخرالزماں ﷺ کی واضح احادیث کو نظرانداز کرتےہوئے اس فتنہ پرور سونے کے پہاڑ والی دولت پر ٹوٹ پڑیں گے۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا علاقہ ایک بہت بڑے میدان جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس لڑائی میں ایک تہائی لوگ قتل ہونگے، ایک تہائی لوگ ہلاک ہو جائیں گے اور ایک تہائی باقی بچیں گے۔ یہی وقت ہوگا جب بعد از لڑائی، اسی سال مسلمانوں میں حقیقی خلافت منہاج النبوہ کا اخیاء کعبہ، مکہ المکرمہ میں ہو گا۔ سو اس لڑائی سے پہلے خلافت منہاج النبوہ کے کعبہ میں اخیاء کی توقع راقم کی عاجزانہ رائے میں شریعت اور احادیث کی رو سے صحیح نہیں۔

اس ذیل میں نعیم بن حماد کی کتاب الفتن سے اخذ دو احادیث مبارکہ اہم ہیں:

حدیث 969: نبی کریم ﷺ نے فرمایا، دریائے فرات سونے اور چاندی کا پہاڑ ظاہر کر دے گا۔ پھر اس پر ہر نو میں سے سات افراد قتل کئے جائیں گے، جب تم اسے پاوَ تو اس کے قریب نہ جاوَ۔ 

حدیث 959: حضرت علی سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ حضرت مہدی نہیں نکلیں گے یہاں تک کہ ایک تہائی لوگ قتل نہ ہو جائیں، اور ایک تہائی مر جائیں اور ایک تہائی باقی بچ جائیں۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post