نظریئے کی سوچ اور مادیت پرستی کی سوچ میں بنیادی فرق How a Person with Ideology Thinks, and How a Materialistic Person Thinks

end of times - nomadthoughtsofeast

end of times - nomadthoughtsofeast

ہماری انسانی سوچ اور فکر کے کچھ بنیادی زاوئیے ہوتے ہیں جن پر ہماری شخصیت کی پوری عمارت استوارہوتی ہے۔ ہماری سوچ اور فکر کے دو بنیادی زاوئیے ہیں۔ ہم میں سے ایک فکر کے لوگ اس بنیاد پر سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں کہ زندگی میں تمام کے تمام مادی وسائل اپنے لئے میسر کر لیں اور اس کے لیئے حلال اور حرام کی تفریق کو کلی یا جزوی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ہم میں سے دوسری فکر کے لوگ یقین اور تیقن والے ہیں۔ ان کے نظریات مادیت پرستی سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ عموما ایسے لوگوں کی فکر روحانی پہلوؤں سے پروان چڑھتی ہے جس میں مادیت کے اوپر روح کی مضبوطی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی سوچوں کو اس زاویئے سے استوار کرتے ہیں کہ ہمارے جسم کا ہماری روح سے کیا تعلق ہے؟

روح کے جسم سے تعلق کا نظریہ انسانوں کی اس جماعت کو زندگی اور موت کے تدبر کی جانب راغب کرتا ہے۔ یہ انسانی جماعت اس فہم پر غور کرتی ہے کہ جب ہماری روح ہمارے جسم سے جدا ہوتی ہے تو اس کے بعد اس روح کا سفر کہاں تک جاتا ہے۔ یہ سوچ، تدبر اور فکر اس انسانی جماعت کو روحانیت کی طرف راغب کر لیتی ہے اور ایسے لوگ عموما سچائی کی تلاش میں سرگرداں اور سرگرم ہو جاتے ہیں۔

مسلمانوں میں جو لوگ روحانیت کی جانب مبزول ہوتے ہیں وہ تصوف کے راہی اور صوفی کہلاتے ہیں۔ ایک سچے صوفی کی پہچان یہ ہے کہ وہ مادیت کے نظریئے سے نہیں بلکہ روحانیت کے نظریئے سے دیکھتا، سوچتا، سمجھتا اور زندگی کے تمام فیصلے کرتا ہے۔ سچائی کی تلاش کا نظریہ ایک صوفی کا سچا اور پکا تعلق نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی وجہ اللہ تعالیٰ سے مضبوط بنیادوں پر بنا چکا ہوتا ہے۔

ایک صوفی کے لئے زندگی کے تمام چھوٹ بڑے فیصلے پیٹ کے نظریئے سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول ﷺ کے ساتھ اپنے روحانی تعلق کی بناء پر ہوتے ہیں۔ پاکستان کو موجودہ زمانے ٘میں واحد اسلامی نظریاتی ریاست کے وعدہ پر تخلیق کیا گیا۔ اگرچہ تمام دنیا بھی مادی اور دنیاوی مفادات کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور حضرت محمد ﷺ کے جان کے دشمنوں اور لا تعداد انبیاء کے قاتلوں کی نسلوں سے اتحاد بنا لیں جو ابھی بھی اہل ایمان اور نظریئے والے لوگوں کے متعلق قاتلانہ نظریات رکھتے ہوں، لیکن اگر پاکستان نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو شاید تمام دنیا جنگ و جدل کے ایسے بہت بڑے عذاب میں مبتلا کی جائے گی جس کے بطن سے مہدی علیہ السلام ظاہر ہونگے اور عیسیٰٰ علیہ السلام آسمان سے ایک عادل حاکم کے طور پر نازل ہونگے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post