اسلام میں قیادت اور لیڈرشپ کا تصور Who is Entitled to be a Leader in Islamic Perspective

islam leadership

islam leadership

اسلام میں برتری یا لیڈرشپ کا معیار تقویٰ ہے۔ تقویٰ بنیادی طور پر تین باتوں پر مشتعمل ہوتا ہے کہ متقی کو سب سے ذیادہ امید، خوف اور محبت صرف اللہ ہی سے ہوتی ہے۔ سب سے ذیادہ امید اللہ سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے جیسے بندوں پر امیدیں باندھنا چھوڑ دے اور جب اللہ کا حکم سامنے آئے تو اپنے جیسے لوگوں کی توقعات کو چھوڑ کر اللہ پر توقع اور توکل باندھ لے۔

سب سے ذیادہ خوف اللہ سے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جیسے تمام انسانوں کا خوف دل سے نکال کر اپنے اوپر صرف اور صرف اللہ کا خوف باندھ لے۔ یعنی جب دنیا کے بندے دوسرے انسانوں پر اپنا خوف طاری کر کے اپنی بات منوانے کی کوشش کریں تو اللہ کا بندہ اللہ کے حکموں کے خلاف ہر قدم کے سامنے چٹان بن جائے۔

سب سے ذیادہ محبت اللہ سے باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ متقی دنیا اور دنیاداروں کی محبت نکال کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کا طالب ہو جائے۔

جو اللہ کا بندہ تقویٰ کے معیار پر جتنا بڑھ جاتا ہے، وہ شخص اللہ کے حکموں پر اتنا ہی عمل پابند ہو جاتا ہے۔ وہ شخص حقیقت میں بندہ آزاد اور بندہ حر بن جاتا ہے۔ ایسا شخص اپنے جیسے بندوں کی غلامی کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے ایک ایسے نظام حیات کا داعی بن جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ فکر اور تدبر کی آذادیاں فطرت کے سانچے میں رہ کر عطا کی گئی ہیں۔ 

 اس طرح سے متقیٰ شخص ایک ایسے مضبوط اور مربوط فطرت پسند زندگی کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے جہاں اس کے لئے ایک آزاد اور کامیاب فکر کے جہاں کی نمو ممکن ٹھہرتی ہے۔

ایسے خوش نصیب اشخاص بندہ مومن کے قالب میں ڈھل جاتے ہیں کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، بندہ مومن کا ہاتھ  گویا کہ اللہ کا ہاتھ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں نہیں سماتا لیکن بندہ مومن کے قلب میں سماجاتا ہے۔ 

لیکن بندہ مومن بننے کے لئے نفس کے بے لگام گھوڑے کو اللہ کے احکامات کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ ہاں جب ایک بندہ مومن ایک اکمل روپ میں سامنے آتا ہے تو گویا کہ انسانیت کی خوش بختی سامنے آتی ہے۔ لیڈرشپ یا قیادت کا کام فیصلہ سازی ہے اور بندہ مومن کے زندگی کے تمام فیصلے اللہ کے احکامات کے سانچے میں تقویٰ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ڈھل چکے ہوتے ہیں۔

سو، بندہ مومن جو کہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار کو پورا کرتا ہے، وہی خوش نصیب اسلام کی رو سے قیادت اور سیادت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ اہل بیت سید یا سردار اسی وجہ سے قرار دیئے گئے کہ ان میں تقویٰ کا معیار عام انسانوں سے کہیں بڑھ کر ہے اور اصل سید کی زندگی میں تقویٰ کی رمق جھلکتی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ اسلام مومنین اور تقویٰ والوں کے سردار تھے کہ غیر اللہ سے امید، اس کا خوف اور اس سے کسی قسم کی رغبت کئے بغیر اس شخص کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا جو تقویٰ کے بنیادی تقاضوں کے معیار پر کہیں بھی پورا ٹھہرتا نظر نہیں آتا تھا۔

Related Post