روحانیت کیسے مادیت پرستی سے بہتر ہے؟ Materialism to Fulfill Personal Whims, Spiritualism to Win Peace of Heart and Soul

Spiritualism

Spiritualism

ہم اکثر روحانیت اور مادیت پرستی وغیرہ کا تذکرہ سنتے رہتے ہیں لیکن ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ روحانیت ہی اصل میں قلبی سکون عطا کر سکتی ہے جبکہ مادیت پرستی سے بہت سے فساد جنم لیتے ہیں۔ روحانیت اصل میں اس نظریے کا نام ہے کہ روح دراصل اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور جس طرح کسی کمپیوٹر میں سافٹ وئیر ہوتا ہے جو دیکھائی تو نہیں پڑتا لیکن وہ ایسا سیٹ آف کوڈ ہوتا ہے جس سے ایک بے جان مشین ہمیں مطلوبہ نتائج دینے کے قابل ہوتی ہے، اسی طرح روح دراصل اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو جب ہمارے بے جان قالب میں داخل ہوتا ہے تو ہمارہ وجود ایک زندہ جاندار میں ڈھل جاتا ہے۔

اس بات کا علم کہ ہمارا متحرک اور جاندار وجود دراصل اس روح کا مرہون منت ہے جو کہ اللہ نے ہمارے بے جان جسم میں ڈالی، ہمیں سماوی علوم جیسا کہ آخری سماوی کتاب قرآن پاک کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ اگر ہم آخری سماوی علم پر یقین رکھنے والے ہیں تو پھر ہم تزکیہ نفس کی راہ کو اپناتے ہیں یعنی اپنی جسمانی اور نفسانی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع کردیتے ہیں اور قربانیوں کی راہ پہ جاری اس سفر کی منزل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ولائیت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ عبادات، وضائف اور ریاضتیں دراصل ہمیں قربانیوں کی راہ پر مائل کرنے کا وسیلہ ہیں۔ یہ قربانیاں ہمیں سچائی، انصاف اور درست ترین فیصلوں کے مراحل پر عمل پیرا ہونے کی تربیت دیتی ہیں جس سے ہم معاشرے کے ایک انتہائی کارآمد فرد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ہمارے اخلاق صحابہ اکرام کے پیروکاروں والے بن جاتے ہیں جنھوں نے نفس کی خواہشات کو حکم اللہ اور حکم رسول ﷺ کے تابع فرما دیا تھا۔

دوسری جانب نفس اور مادیت پرستی کا سفر ہے۔ مادیت پرستی دراصل کوئی بھی شخص نفسانی خواہشات کی تعمیل کے لئے ہی کرتا ہے اور اس کا منجاء و مقصود نفس کی پیروی ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دراصل یقین کی منزلوں کو دنیا اور اشیائے دنیا سے منصوب کر چکے ہوتے ہیں سو ان کا ایمان اللہ اور اس کے حکم سے ذیادہ مادیت کی طاقت پر ہوتا ہے۔ ایسے لوگ عموما نفسانی خواہشات کی قربانی سے دور بھاگتے ہیں اور نفس کے پوجاری بن کر اپنی زندگیاں گزارنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی نفسانی تسکین کے لئے جھوٹ، دغا، حق تلفی اور ہر طرح کے چھوٹے بڑے گناہ میں ملوث ہونے کو عار نہیں جاتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے یہ دنیا ہی ہے آخرت کچھ نہیں۔

اللہ نے اپنی آیات یا نشانیوں کے ذریعے سے اپنی اشرف المخلوفات کی رہنمائی فرمائی ہے۔ تاہم جو لوگ من کے سچے ہوتے ہیں اور دل کو نفسانی خواہشات کے منفی پہلوؤں سے بچا بچا کر زندگی کا سفر آگے کی جانب بڑھاتے ہیں انھیں اللہ کے سچ بھرے نور کی جانب راہنمائی کی جاتی ہے اور راہ حق سجھائی جاتی ہے۔ جبکہ گناہوں کی غلاضتوں سے آلودہ قلوب جو کہ نفسانی خواہشات میں ہر حد سے گزر چکے ہوں، ایسے قلب پر قفل لگا دیئے جاتے ہیں اور عموما ایسے لوگ اپنی منزل کو کھو بیٹھتے ہیں اور اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیتے ہیں۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post