کیا امریکی معاشرہ عدم استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے Is the US Society Unfortunately Heading Towards Collision

https://www.nomadthoughtsofeast.com/2020/11/20/

https://www.nomadthoughtsofeast.com/2020/11/20/

موجودہ دور میں دنیا بھر کی معشتیں دراصل آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور امریکی معیشت کیونکہ دنیا بھر میں سر فہرست ہے اس لئے شمالی امریکہ اگر عدم استحکام سے دوچار ہو جائے تو پھر شاید دنیا بھر کی معیشتیں ڈوب سکتی ہیں۔

اگر ہم آج کے حالات پر نظر رکھیں تو حالیہ امریکی الیکشن 2020 کے بعد جس میں دو جماعتی نظام کے تحت ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جناب جوبائیڈن نے اکثریتی ووٹ حاصل کر لئے ہیں۔ جبکہ ریپبلیکن امیدوار اور موجودہ امریکی صدر کچھ ملین ووٹوں کے فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے ہیں۔

تاہم موجودہ صدر جناب ڈونلڈ ٹرنپ نے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اقتدار کی نئی قیادت کو منتقلی کے عمل میں پیشرفت کو بھی آگے بڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔

قطہٗ نظر اسکے کہ امریکی اقتدار کا اصل حقدار کون ہے اور آیا کہ واقعی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں، اہم یہ ہے کہ  امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کے عمل میں اسی طرح کا جمود جاری رہتا ہے تو کیا اس سے امریکی معاشرہ عدم استحکام کا شکار تو نہیں ہوجائے گا اور اس کے دنیا بھر کی معیشتوں پر منفی اثرات کس حد تک پڑ سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جاننے والوں کے مطابق امریکی معاشرہ دو انتہاؤں پر پہنچ چکا ہے۔ ریپبلیکن جماعت کے لوگ کسی حد تک پرانے رجحانات کے حامل اور شاید کسی حد تک امپیرئیلزم کی سوچ کے حامل ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ دور میں زیادہ تر امریکی جنگیں ریپبلیکنز کے دور میں چھیڑی گئی ہیں۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس لبرل ازم، شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے حیثیت سے امریکہ اور دنیا کو آگے کی جانب بڑھانے کا منشور رکھتے ہیں۔

امریکہ میں اسلحہ کا حصول بھی قانونی طور پر جائز ہے اور اسی لیئے گھر گھر اسلحے کے انبار لگ چکے ہیں۔ اگر امریکی معاشرہ میں عدم استحکام اسی طرح سے آگے بڑھتا ہے تو اس سے خدانخواستہ اس معاشرہ میں خانہ جنگی کی سی کیفیت بھی طاری ہو سکتی ہے جس سے نہ صرف یہ کہ امریکی معیشت ڈوبے گی بلکہ خدانخواستہ پوری دنیا کی معیشتیںوں کے علاوہ دنیا بھر کے ممالک کا ریاستی اور علاقائی استحکام بھی داؤ پر لگ جائے گا اور تباہی کا عمل صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا بھر میں بھی پھیل سکتا ہے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post