خاتم النبین ﷺ حضرت محمد ﷺ کی دنیا میں بعثت کے اغراض Why Seal of the Prophet-hood Prophet Muhammad SAW Was Sent in This World

Prophet Muhammad

Prophet Muhammad

گو کہ نوع ِانسانی خطا کا پتلا ہے، لیکن حضرات انبیاء معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ انسانی شعور اور علمی معراج کا محور سماوی علوم ہیں جو کہ حضرات انبیاء کو ودیعت کیے گئے۔ انبیاء کو یہ علوم اور سماوی شعور رب تعالیٰ نے انسانی مداخلت کے بغیر، براہ راست اپنے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل کے ذریعے سے پہنچائے جس کی بناء پر  انبیاء کو جو بھی آسمانی علوم حاصل ہوئے وہ اپنی نوعیت اور ہیت کے اعتبار سے
خالص، اکمل اور متوازن تھے۔

ایک مشہور روایت کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو متعین کیا گیا، جنھوں نے اپنے اپنے ادوار کے مطابق نہ صرف یہ کہ انسانیت کی جانب حق راہنمائی فرمائی بلکہ انسانیت کو بحیثیت مجموعی ایک ایسی اجتماعی فکر اور تدبر بھی عطا فرمایا  جس سے انسانیت میں ایک مشترکہ راہنما کا تصور ابھرا۔ یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمام انسانیت کے لیے مشترکہ راہنما اور نبی محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ کو ظہور میں لانے کی تدبیر تھی جس  کو آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ہی عمل پذیر   لایا گیا تھااور جس کی تکمیل   آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل وقوع پذیر ہوئی۔ وہ زمانہ اور وقت درحقیقت انسانیت کی معراج اور عروج کا  زمانہ اور وقت تھا۔ وہ ساعت اور گھڑی بہترین اور افضل ترین تھی۔

نسل اور قبائل میں بکھرے عرب میں ایک مثبت پہلو نمودار ہو چکا تھا اور وہ تھا ان میں زباں دانی کا شعور۔ عرب اپنی زباں دانی پر فخر جتاتے تھے اور اس کی وجہ دراصل قدرتی موافق حالات کی بناء پر ان کا لسانیت پر غیر معمولی دسترس ہونا تھی۔ شعب اور قبائل میں بٹی انسانیت کو ایک مشترکہ سماوی شعور کے عطا ہونے کا پُرانور وقت قریب آیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر تمام عالمین کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کو خاتم النبین ﷺ قرار فرمایا اور ختم نبوت کی مہر عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کیلئے رہتی دنیا تک مکمل سماوی دین، دین حنیف، دین اسلام عطا فرما کر بھیجا۔

نبی کریم ﷺ نے آنے والے زمانے کے لوگوں کے لیے دین اسلام کو سیکھنے کے دو بنیادی ذرائع کی جانب راہنمائی فرمائی، کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ۔ جس بھی فرد نے رہتے زمانوں تک کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کو تھام لیا، حقیقتاً کامیاب ٹھہرا، جنھوں نے انکار کیا اور جھٹلایا، ناکام و نامراد ٹھہرے۔

Related Post