پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز Rapid Rise of COVID19 Corona Virus Cases in Pakistan

nomadthoughtsofeast

nomadthoughtsofeast Cororna

 پاکستانی قوم کو بحثیت مجموعی اب ڈینائیل کے فیز سے باہر آ جانا چاہیے۔ کورونا آ نہیں رہا بلکہ اسے روکنے والے نیوزی لینڈ اور چائینہ کی طرح کی کامیابیاں سمیٹنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ کورونا اب پوری طرح پاکستان کے طول و عرض میں اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے۔ اب سوال اس کامیاب حکمت عملی کا ہے جس کو اپنا کر پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم کسی بھی کامیاب حکمت عملی کا حصول غالباْ اسی وقت ممکن ہو پاتا ہے جب اس حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے والی لیڈرشپ مخلص، کمیٹڈ اور قابل ترین ہو۔ اس لیڈرشپ کے زاتی اور قومی مفادات میں ٹکراؤ کا عنصر بھی موجود نہ ہو۔ وہ لیڈرشپ اپنے مقصد کے حصول کے لیئے قابل ترین و مخلص ترین ٹیم کو نہ صرف یہ کہ ایک پلیٹ فارم میسر کر سکے بلکہ بلند ترین قومی مقاصد اس لیڈرشپ کی سب سے اولین ترجیح ہو۔ وہ لیڈرشپ وسیع تر قومی ترجیحات کا تعین کرنے کے قابل ہونے کے ساتھ ساتھ ان حکمت عملیوں کو عملی جامہ پہنانے کے بھی قابل ہو۔

اس وقت اگر ملکی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو بہت حد تک یقیناْ ہمارے پاس موجود لیڈر شپ میں نہ صرف وژڈم، وژن اور دوراندیشی کا وہ لیول نظر نہیں آ رہا جو پاکستان کی تاریخ کے شاید سب سے بڑے بحران سے نبٹنے میں سود مند ہو سکے بلکہ مختلف لیول پر موجود موجودہ قیادت کے ذاتی مفادات بھی پاکستان سے زیادہ بیرون ممالک وابستہ نظر آ رہے ہیں۔ اس وجہ سے کورونا وباء کے متعلق اقدامات میں بھی ممکنہ طور پر پاکستان سے زیادہ سامراجی بینکوں کی معیشت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بحرحال اگر خوش قسمتی سے پاکستان کو ایک صحیح، مخلص، قابل ترین اور پاکستان اور زاتی مفادات کی یکجائی والی قیادت نصیب ہو جائے تو پھر پاکستان کورونا وباء کے متعلق کیا حکمت عملی اختیار کرے، اس حکمت عملی کے پہلو کو زیر بحث لانا بھی موضوع کا مقصود ہے۔

ایک نہایت مستند تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی کسی بھی مادے یا شے پر زیادہ سے زیادہ عمر 14 دن ہوتی ہے۔ سو، اگر کوئی بھی ریاست صرف اور صرف کم و پیش 14 دن یا اس سے کچھ زیادہ ریاست کی سرگرمیوں کو جامد کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر نہ صرف کورونا مرض کا پھیلاؤ نہ صرف رک جاتا ہے بلکہ موجودہ مریض بھی اللہ کے فضل سے یا تو صحتیاب ہوجاتے ہیں یا اللہ کی رحمت سے مل جاتے ہیں۔

کورونا کے متعلق حکمت عملی میں 14 دن یا اس سے کچھ زیادہ کا کرفیو کی طرح کا لاک ڈاؤن اہم ہے جیسا کہ نیوزی لینڈ اور چائینہ نے کیا اور اب اپنی سماجی و معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے قابل ہو گئے۔ لیکن اس کے لیئے ہمیں ایک کمیٹڈ، قابل اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے جو اس سٹرکٹ اور کرفیو کی طرح کے کم و پیش 14 دن یا زیادہ کے لاک ڈاؤن کو قومی مقصد سمجھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ یقینی بنائے بلکہ اس دوران ایسا نظم ونسق وضع کر چکی ہو کہ مزید صحت مند افراد کو مرض میں مبتلا ہونے سے بچائے اور ان صحتمند افراد کے زریعے مرض کا شکار افراد کیلیَے ریلیف سرگرمیوں کو جنگی بنیادوں پر استوار کرے۔ اس مقصد کے لیئے اگر صحت سے متعلق ہنگامی حالات نافذ کرنے پڑیں تو ان پر بھی عمل درآمد کیا جائے۔

تاہم اس کے لیَے پاکستان کو ایسی مخلص قیادت کی ضرورت ہو گی جو قوم کو اجتماعی خودکشی کی صورتحال کی جانب دھکیلنے کی بجائے قوم کے تن مردہ میں جان ڈالنے اور نئی روح پھنکنے لیئے قابلیت اور حکمت عملی کے ساتھ عملی اقدامات اٹھائے۔ قیادت کا کردار منافقانہ نہ ہو، آج کچھ کل کچھ، بلکہ ایسی قیادت چائیے جس کے عمل و کردار میں حقیقی پختگی، حقیقی صداقت اور حقیقی امانت ہو۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post