نظام کی غلامی، بہتر یا بدتر؟ Slavery of System, Good or Bad

nomadthoughtsofeast

slavery of system nomadthoughtsofeast

 انسان بنیادی طور پر کسی نہ کسی طرح نظام یا سسٹم کا غلام ہے۔ اب غوروفکر کا پہلو یہ ہے کہ سسٹم کی یہ غلامی بہتر ہے یا کہ بدتر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کا سسٹم یا نظام سے فرار شاید کبھی بھی ممکن نہیں اور اسے کسی نہ کسی ضابطہ اثر کے تحت اپنی زندگی کو گزارنا ہوتا ہے۔ ہم میں سے چاہے کوئی کسی دور دراز کے گاؤں وغیرہ میں رہتا ہو یا پھر شہر کی چکا چوند روشنی میں، ہر جا رہنے کے کچھ ضابطے ہیں جن کا انکار ممکن نہیں اور نہ ہی ان ضابطوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں کو کامیابی سے آگے بڑھانا ممکن بناسکتے ہیں۔

یہی ضابطے، ریج اور رواج نظام حیات یا زندگی کا سسٹم بناتے ہیں۔ نظام حیات یا زندگی کا سسٹم عموما کسی بھی معاشرے کا عکس ہوتا ہے جو اس معاشرے کو مقامی بدوبو کے مطابق زندگی کے سفر میں آگے بڑھانے کو ممکن بناتا ہے۔ تاہم جیسے جیسے دنیا نے گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کی ہے توں توں عالمگیر معاشروں کے اندر ایک دوسرے کے سسٹم کو زیر کرنے کا رواج زور پکڑ گیا ہے اور دوسرے معاشروں پر اپنا اپنا سسٹم یا سماجی، معاشرتی اور معاشی نظام زورزبردستی یا پھر ثقافتی یلغار کے ذریعے بھی لاگو کرنے کے عمل کو دنیا بھر میں بے انتہاء تقویت ملی ہے۔ 

خاص طور پر اگر ہم آج کے دور کا جائزہ لیں تو مغربی تہذیب بالخصوص دنیا کی دیگر دوسری تہذیبوں پر تیزی سے غلبہ پاتی نظر آتی ہے اور اس کی مضاحمت میں دنیا کی اکثر دیگر تہاذیب اپنے اپنے ثقافتی و سماجی تمدن کے دفاع میں سرگرم نظر آتی ہیں۔ یہی ثقافتی و سماجی تمدن کا دفاع ان تہاذیب کی نظر میں شاید ان کے سماجی نظام یا سسٹم کو ذندگی و دوام بخشنے کے لئے بنیادی اور کلیدی اساس ہے۔

راقم کی رائے میں یہ سسٹم کے ساتھ ساتھ کسی بھی سسٹم کوچلانے والے پر بھی بہت حد تک منحصر ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا لیڈر کس طرح سے اپنی سماج کے سسٹم کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس بارے اگر ہم ایک گاڑی کی مثال لیں تو اگر ایک بہترین گاڑی کسی اناڑی کو دے دی جائے یا ایک بد ترین گاڑی کسی بہترین ڈرائیور کو دے دی جائے، دونوں حالت میں شاید منزل مقصود پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکے۔ ہاں اگر اناڑی ڈرائیور کو جدید ترین اور آٹومیٹک کنٹرولڈ گاڑی دی جائے یا ایک بہترین ڈرائیور ایک بہترین موٹر مکینک بھی ہو جوکہ گاڑی کے اکثر نقص باآسانی دور کر سکے تو ان دونوں صورتوں میں منزل مقصود تک پہنچنے میں شاید آسانی ہو سکے۔

تاہم اگر ہم دین فطرت یعنی اسلام سے رہنمائی لیں تو نہ تو سسٹم کو اتنا خراب ہونا چاہیے کہ اس سسٹم یا نظام حیات پر زندگی کا سفر جاری رکھنا ممکن نہ رہے، اور نہ ہی سسٹم کے کرتا دھرتا یا اشرافیہ  کی زندگیوں کا دامن اتنا داغدار ہو جائے کہ کجا اپنے لوگ ان کو اپنا سردار تسلیم کریں، بلکہ غیر ہی آ کر انہیں اور ان کی پوری قوم کو زیر و زبر کرتے بنیں۔ اسی سسٹم یا نظام حیات کی غلامی بھلی جو انسانیت کو دنیا و آخرت میں حقیقیی طور پر سرخرو کرے، جبکہ اس سسٹم یا نظام حیات سے دوری بھلی جس نظام حیات سے خاص طور پر آخرت کی ہمیشہ کی زندگی داؤ پر لگ جائے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post