عبادات اور ریاضتوں سے تزکیہ نفس تک کا سفر The Purpose of Worship is to Purify Our Heart and Soul

nomadthoughtsofeast

nomadthoughtsofeast

 آل رسولﷺ کو سید یا سردار قرار دیا گیا۔ لیکن اسلام میں برتری کا معیار تو رنگ و نسل کی بجائے تقویٰ کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ دراصل ان دونوں ہی باتوں میں ربط ہے۔ اصل سید کی پہچان یہ ہے کہ اس میں تقویٰ کا عنصر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اور تب ہی وہ سید یا سردار قرار پاتے ہیں۔ 

تقویٰ کے تین بنیادی تقاضے، سب سے زیادہ امید، خوف اور محبت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے رکھنا ہے کہ دینا کے لوگوں اور اشیاء سے امید، ان کا خوف اوران کی محبت کو دلوں سے نکال دینا تاکہ دل تمام دنیاوی بتوں سے پاک ہو جائے اور دل میں اللہ پاک کا بسیرہ ہو جائے، یہی تقویٰ کا محور و مقصود اور عبادات و ریاضتوں کا نچور ہے۔ 

دنیا ایک آزمائش کا گھر ہے۔ دنیا میں آنے کا مقصد و مقصود نفوس پاک کا حصول ہے۔ نفوس پاک تقویٰ اختیار کرنے سے آتے ہیں، دلوں کے بت توڑنے سے آتے ہیں۔ ایسے نفوس پاک کے دل اللہ پاک کا مسکن بن جاتے ہیں اور ان پاک نفوس کو مومنین والی فراست، حکمت، اخلاق، جراَت، پامردی اور استقامت حاصل ہو جاتی ہے، جس سے ان پاک نفوس کے لئیے جنت کا انتہائی کٹھن سفر صرف اور صرف اللہ پاک کی مدد سے انتہائی سہل بنتا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی آزمائش آنی ہے دنیا میں کیونکہ یہ دنیا آزمائش کی جا ہے۔ اس آزمائش کی گھڑی میں وہ پاک نفوس کامیابی کا روشن امکان رکھتے ہیں جو توکل کے رستے کو اختیار کرتے ہوئے تقویٰ کا زاد راہ ساتھ رکھتے ہیں۔ سو ہر مشکل اور آزمائش ان نفوس پاک کی نظر میں ہیج ہوجاتی ہے۔ جب منزل مقصود جنت الفردوس میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور دیدار جو ٹھہرا تو عشق حقیقی کی اس راہ میں آنے والی آزمائشوں کی کیا پرواہ۔ جب یقین اور تیقن ہی یہ کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور قرب ہی حصول زندگی اور وہ اطاعت و غلامی رسول میں پنہاں۔

ان تقویٰ والے پاک نفوس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اپنی خلافت کا خرقہ عطا فرماتا ہے۔ ایسے پاک نفوس کی محبت عرش و فرش، ہر جا مقبول عام ہو جاتی ہے۔ تاہم دنیا دار لوگ جن کا مقصد و محور اللہ تعالیٰ سے امید، اس کا خوف اور محبت نہیں بالکہ وہ مال و متاع دنیا کے زور پر اللہ کی مخلوق پر اپنی ہی زات سے امید، خوف اور محبت کی طلب و رغبت رکھتے ہیں، اللہ پاک کے مقرر نائب ایسے دنیا داروں کی نظر میں اپنے مخالف اور دشمن ٹھہرتے ہیں۔ حضرت امام حسین پاک نفوس کے امام تھے اور ان کا قلب دراصل اللہ کا مسکن تھا۔ خلافت ارضی کے اصل وارث حضرت امام عالی مقام ہی تھے لیکن دنیا پرست اور نفس پرست یزیدی اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے خلافت ارضی کے وارث پاک نفوس کو حکم اور اختیار کے درجے پر دیکھنے کے روادار نہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر اپنے زات کی اطاعت پر مجبور کرنے لگے۔

امام عالی مقام نے اللہ تعالیٰ پر توکل کی راہ اختیار کی۔ تقویٰ کا زاد راہ ہمراہ لیا، اور اپنے اور اپنی آل کی جان و مال کی پرواہ کئیے بغیرصرف اور صرف اللہ پاک کی حاکمیت کا علم بلند کیا کیونکہ یہی ان کی خلافت ارضی کا حقیقی تقاضہ بھی تھا اور ان کے تقویٰ کی آزمائش کا مقصود بھی۔ سو شہادت کی راہ اپناتے ہوئے جنت الفردوس میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کے حقدار کے طور پر اپنے تقویٰ کا معیار دنیا پر عیاں کرتے گئیے۔

 انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ   میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی (سنن ابن ماجہ 4087)۔

اپنے کو مسلمان قرار دینے والے ایک گروہ نے یزیدیت کا رستہ چنا اور دنیاوی متاع کے لالچ میں اپنی آخرت داَو پر لگا دی۔ وہ گروہ حضرت امام حسین کو قربان گاہ میں لے آیا۔ دوسرے اپنے کو مسلمان قرار دینے والے گروہ نے آپ کی مدد و اعانت کی قسمیں کھائیں لیکن تلواریں یزید کے حق میں اور امام کے خلاف چلائیں۔ یہ تاریخ کا سبق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے۔ ملک شام میں ہر سو تباہی کا عالم اور اسرائیل کا دنیا کی مضبوط ترین ریاست کے طور پر ابھرنا یہ ایسی علامات ہیں جن کا زکر آخری زمانے کے اکثر ابواب میں درج ہے۔ بہت ممکن طور پر اب ہم تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں کسی بھی وقت اور کسی بھی لمحے بہت بڑے بڑے امتحان اور آزمائیشوں کے ادوار کی انتہائی واضح صورت سامنے آنے لگے۔

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post