ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے انتحابات اور اس کے مقامی و عالمی اثرات American Elections 2020 and Their Local and Global Impact

US Elections

US Elections

 ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 4 نومبر کو منعقد  ہونے والے عام انتحابات جید تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی رائے میں اپنے پیچھے شاید بہت سے دور رس نتائج چھوڑنے جارہے ہیں۔ امریکہ جوکہ تحقیقی میدان میں سے کلیدی حثیت رکھنے کی وجہ سے اس وقت بھی دنیا کی طاقتور ترین ریاست تصور ہوتا ہے، اس کے عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے موجودہ دو جماعتی نظام میں سے ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلیکن پارٹی کے صدارتی، گانگرس اور ہاوس آف کامنز کے انتحابات میں حصہ لیا۔ 

موجودہ امریکی صدر جو کہ متحدہ امریکہ کا سب سے بااختیار شخص متصور ہوتا ہے وہ سب کے جانے پہچانے جناب ڈونلڈ ٹرنپ صاحب ہیں جن کا تعلق ریبلکن پارٹی سے ہے۔ ان کے مدمقابل سینٹ میں سب سے طویل کیرئیر رکھنے والے جناب جو بائیڈن صاحب ہیں جن کا تعلق ڈیموکرٹ پارٹی سے ہے۔ موصولہ انتحابی نتائج کے مطابق جناب بائیڈن الیکٹورل کالج کی مطلوبہ270 سے بھی کچھ زیادہ نشستیں جیتنیں میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ ابھی کچھ ریاستوں کے نتائج آنا  ابھی باقی ہیں۔ جس پر میڈیا رپورٹس میں جوبائیڈن کو نیا منتحب صدر قرار دے دیا گیا ہے۔

تاہم انتحابات میں مطلوبہ نشستوں پر اکثریت حاصل نہ کر پانے والے ڈونلڈ ٹرنپ آخری میڈیا اطلاعات اور ٹویٹر پیغامات میں اقتدار چھوڑنے سے انکاری نظر آ رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرنپ نے اقتدار انتحابی کامیابی کے دعوےدار جوبائیڈن کو منتقل کرنے سے انکار کر دیا تو پھر کیا انتقال اقتدار کا فیصلہ ووٹ کی طاقت کی بجائے کسی اور ہی رخ پر ہونے کے امکان ہے؟ دراصل ریاست ہاٗئے امریکہ دنیا کا شاید وہ واحد خطہ ہے جس کے عوام کی بہت ہی کثیر تعداد قانونی طور پر جدید ترین طور پر اسلحہ بند ہے۔

تیسری دنیا کے ایسے ممالک جہاں اسلحہ عام عوام کی شاید اتنی دسترس میں نہیں ہے، وہاں بھی ووٹ کی طاقت کے بغیر اقتدار کی منتقلی کا رسک جو کہ ڈیپ اسٹیٹ کی جانب سے اٹھایا جائے وہ کو ئی سہل اقدام نہیں ٹھہرتا، اور اگر ایک انتہائی متحرک اور باقی دنیا سے بہت آگے کی سوچ رکھنے والی قوم میں اگر چاہتے یا نا چاہتے ہوئے ایسے اقدامات کسی بھی جانب سے اٹھائے جائیں جس میں پرچی کی طاقت پر جبر اور استحصال کو ترجیح دینے کا عمل مستحسن قرار پائے تو پھر اس سے مضبوط ترین ریاستیں بھی اپنا شیرازہ قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں اور ان کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔

جبکہ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ریاست ہائے امریکہ کا کسی شدید اندرونی خلفشار اور محازآرائی کا شکار ہونا صرف وہیں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ایسا طوفان ہے جو اگر اٹھا تو شاید پوری دنیا کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دے گا۔ صرف مملکتوں کے تحتے الٹنے تک ہی یہ عمل نہیں رکے گا بلکہ دنیا ایک لمبے عرصے تک کے لئے ایک نا تھمنے والی عالمگیر جنگ کا بھی شکار ہو جائے گی۔

Related Post