اپنا کاروبار بہتر ہے یا پھر جاب؟ What is Better As a Profession, Own Business or a Job

nomadthoughtsofeast

nomadthoughtsofeast

دوستو! ہم میں سے جو لوگ ورکنگ ایج یا کمانے کی عمر میں پہنچتے ہیں تو اس دوراہے یا کراس روڈ پر ہوتے ہیں کہ ہمیں جاب کرنی چاہیے یا پھر کوئی بزنس کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم کسی طرح سے اپنے کاروبار یا بزنس کو اچھے سے اسٹیبلیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم کئی اور لوگوں کو بھی نوکریوں یا جاب پر رکھ سکتے ہیں۔

تاہم کسی بھی بزنس کو شروع کرنے سے پہلے ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیںے کہ آیا ہمیں اپنے بزنس سے متعلقہ فیلڈ یا شعبہ کی تمام ضروری معلومات ہونی چاہیں۔ ہماری بزنس کرنے کی یا تو پروفیشنل ٹرینگ ہو، یا پھر گزشتہ جاب اور تجربہ کی بھٹی سے گزر کر ہم میں اس حد تک کاروباری سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے کہ ہم باآسانی کاروبار کو کامیابی سے سنبھالنے اور آگے بڑھانے کے قابل ہو جائیں۔

دوسری اہم بات جو کہ کاروبار کے لئے اہم ہے وہ یہ کہ ہم اتنا کاروباری سرمایہ کاروبار شروع کرنے سے پہلے اپنے پاس موجود رکھیں  جس سے کاروبار کے اگلے تقریبا چھ ماہ کے متوقع اخراجات باآسانی پورے ہو سکتے ہوں۔ یہ سرمایہ یاں تو ہمارے پاس موجود جمع پونجی پر مشتعمل ہو سکتا ہے، یا پھر ہم لون یا قرضہ سے بھی کاروباری سرمائے کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔

کاروباری قرضہ ہمیں یا تو اپنے کسی جاننے والے سے، یا پھر کاروباری انویسٹرز کا اعتماد جیت کر، یا سب سے اہم یہ کہ بینک وغیرہ کی کاروباری اسکیموں سے مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک  نہایت تجربہ کاری سے لکھا یا لکھوایا گیا بزنس پلان یا کاروباری منصوبہ بھی ہونا چاہیے جو کہ ہمیں کم سے کم 3 تا 5 سال تک کا کاروباری روڈ میپ دے سکے جس پر چل کر ہم اپنے کاروبار کو کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔

اگر ہم میں کاروباری تجربہ کی کمی ہے اور کسی خاص فیلڈ یا شعبہ میں ہم کاروبار کرنے میں دلچسپی بھی رکھے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ہم کاروباری سرمائے کے حوالے سے بھی دقت کا شکار ہیں جیسا کہ اکثر نئے کاربار کرنے والوں کو مشکلات وغیرہ پیش آتی ہیں تو اس بارے میں اگر ہم ایک  حکمت عملی یا سٹریٹیجی سے آگے بڑھیں تو انشااللہ کامیابی یقینا ہمارے قدم چومے گی۔

وہ  کامیاب سٹریٹیجی یا حکمت عملی کوئی نئی تو نہیں لیکن بہت ہی ذوداثر ہے اور وہ یہ کہ ہم کچھ عرصہ اپنی دلچسپی کے شعبہ میں تجربہ حاصل کریں اور اس کے لئے اگر ہمیں تھوڑے سے پیسوں پر بھی اس دلچسپی والےشعبہ میں ملازمت کرنی پڑے تو بھی اس میں عار نہیں جاننی چاہیے کہ کچھ پانے کے لیئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اس طرح سے جب ہم کافی حد تک کاروباری سمجھ بوجھ حاصل کر لیں اور خوش قسمتی سے اگر جاب میں پے بھی اچھی ہو تو اس سے سیڈ منی یا کاروباری سرمایہ بھی جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو سونے پہ سوہاگہ۔

اس طرح سے حاصل تجربہ اور سرمایہ کی مدد سے اللہ کی مدد اور نصرت سے ہم ایک کامیاب کاروبار  بنانے اور اس کو آگے چلانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ناصرف یہ کہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے باعزت روزگار کا حصول ممکن بنا سکیں گے بلکہ اور بہت سے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شامل رزق کر سکیں گے اور اس طرح سے معاشرے اور مملکت خداداد پاکستان کی تعمیر و ترقی میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

Related Post