کاروبار میں سرمائے کو گردش میں لانا کیوں ضروری ہے؟ Why this is Important in Business to Circulate Finance

Circulation of Money, Business, Accounting, Finance

Circulation of Money, Business, Accounting, Finance

کاروبار کا ایک بنیادی لیکن انتہائی اہم نکتہ ہے کہ یہ ہے کہ کاروبار میں لگائے گئے سرمائے کو گردش میں لایا جائے۔ جتنا ذیادہ کاروباری سرمائے کو گردش میں لایا جائے گا، عموما اتنا ہی کاروبار کے منافع کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال بہت سادہ سی ہے۔ اگر ہم کوئی بھی کاروبار کرتے ہیں تو اس کے لئے مال خریدتے ہیں۔ یہ مال ہم نقد پربھی خریدتے ہیں اور ادھار پر بھی۔

اسی طرح سے ہم تیار شدہ اشیاء نقد پر بھی بیچتے ہیں اور ادھار پر بھی۔ فرض کیا کہ اگر ہمارا بہت سا سرمایہ ادھار کی مد میں ہمارے گاہکوں یا کسٹمرز کے پاس رکا رہے اور ہم دوسرے کسٹمرز کی مانگ پوری کرنے کے لئے روپوں کا انتظام نہ کر سکیں تو اس طرح سے ہمارا کاروبار آگے بڑھنے کی بجائے ترقی کے عمل میں پیچھے رہ جائے گا۔ سو اس بات کو زیر نظر رکھتے ہوئے ہمارے کاروبار کا یہ اصول ہونا چاہیے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے، ادھار سرمائے کو جلد از جلد گاہکوں اور کلائنٹس سے ریکور کر لیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہم جب اپنے سپلائرز یا وینڈرز سے مال خریدنے لگیں تو ان سے کریڈٹ لیمیٹ یا ادھار کی مد میں ذیادہ سے ذیادہ مال خریدیں۔ اس سے یہ ہوگا کہ ایک طرح سے ہم اپنے سپلائیرز کے سرمائے پر اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہے ہونگے۔ سو بنیادی کاروباری اصول جو ہم اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے مال کو کم سے کم کریڈٹ لیمٹ پر اپنے کسٹمر یا گاہک کو بیچیں اور اپنے سپلائرز سے ذیادہ سے ذیادہ مدت کے لئے ادھار پر خریداری کو ممکن بنائیں۔

اب ہوگا یہ کہ مثال کے طور پر جب ہم اپنے سپلائرز سےایک ماہ کی ٹرم پر مال خریدیں گے اور اسے ایک ہفتے کی مدت پر اپنے کسٹمر کو فروخت کریں گے تو سپلائرز کا کاروباری سرمایہ ایک ماہ کے لئے ہمارے پاس رہے گا اور اس دوران اگر ہم ایک ماہ میں چار مرتبہ بھی اس سرمائے کو گردش میں لے آئیں تو ہمارے منافع کی شرح بہت بڑھ جائے گی، بجز اس کے کہ ہم اپنے گاہک کو دو یا تین ہفتوں کی پے منٹ ٹرم پر مال دیں جس سے ہمارا سرمایہ گاہک کے پاس پھنسا رہے گا اور مناسب طور پر گردش میں نہ آنے کی وجہ سے ہمارے نفع کی شرح کافی کم رہے گی۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post