جس کاروبار میں جتنا زیادہ رسک، عموما اتنا ہی زیادہ نفع As Much Risk, As Much Profit

Risk Management

Risk Management

یہ کسی بھی کاروبار کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جس کاروبار میں جتنا بھی رسک اور نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے عموما اس کاروبار میں اتنا ہی زیادہ نفع پوشیدہ ہوتا ہے۔ عام فہم میں اس کو اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ کاروباری حضرات عام طور پر کاروبار میں رسک نہیں لینا چاہتے اور کوئی ایسی انویسٹمنٹ نہیں کرنا چاہتے جس میں پیسے ڈوبنے کا اندیشہ ہو۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروبار کی مدد سے لوگوں کی ڈیمانڈز اور ضروریات پوری ہوتی ہیں۔سو جب بہت سے کاروباری حضرات کسی ایسی انویسٹمنٹ میں ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں جس کاروبار کے ڈوبنے کا اندیشہ ہو تو جو بھی شخص وہ کاروبار کرے گا وہ  عموما دیگر کاروباروں اور انویسٹمنٹس کی بنسبت زیادہ نفع کمائے گا۔ وہ اس لیے کہ اس کا کاروباری مقابلہ دوسرے کاروباروں کی نسبت کم لوگوں سے ہوتا ہے اور اس لیے وہ اپنی پروڈ کسٹس اور سروسز کو زیادہ نفع پر اپنے کسٹمرز کو پیچنے میں کامیاب رہتا ہے۔ عموماً  بینک بھی ایسی انویسٹمنٹ کو  مسترد کر دیتے ہیں جن انویسٹمنٹس میں رسک فیکٹر زیادہ ہوتا ہے۔بینک اور کاروباری ادارے رسک فیکٹر کی کلکولیشن کے لیے انتہائی تجربہ کار اور ماہر اسٹاف کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ یہ سٹاف فائنانشل اینالیسٹ کہلاتا ہے۔  یہ فنانشل اینالسٹ یا زیادہ درست انداز میں کریڈٹ یا رسک اینالیسٹ جدید ٹولز اور سافٹ ویئرز کی مدد سے کسی بھی انویسٹمنٹ اور کاروبار کا رسک فیکٹر نکالتے ہیں۔ اگر اس کاروبار کا رسک فیکٹر زیادہ ہو تو عموما بینک ان بزنسز اور کاروباروں کو قرض مہیا کرنے سے اجتناب برتتے ہیں۔ایسے کاروبار جن میں رسک فیکٹر بھی زیادہ ہے اور منافع کی شرح بھی زیادہ ہے ان میں ٹرانسپورٹیشن کا بزنس سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ پراپرٹی کا کاروبار بھی ہائی رسک انویسٹمنٹ تصور ہوتا ہے۔ اور اسی لیے بہت سے بینک عموما ان دوسیکٹرز کو زیادہ آسانی اور سہولت سے کاروباری قرضہ جاری کرنے سے اجتناب برتتے ہیں۔ تاہم جو بھی لوگ ان دو کاروباروں سے وابستہ ہیں ان میں منافع بنانے والے عموما بہت سا نفع کمانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جب کہ کئی لوگوں کا نقصان ان کی عمر بھر کی کمائی اور جمع پونجی لے جاتا ہے۔ 

Related Post