بہاولپور، نوابوں کا شہر Bahawalpur – The City of Nawabs

Nur Mahal Bahawalpur

Nur Mahal Bahawalpur

بہاولپور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوب میں واقعی انتہائی اہم شہر ہے۔  بہاولپور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 11 واں بڑا شہر ہے۔  2017  کی مردم شماری کے مطابق بہاولپور شہر کی کل آبادی سات لاکھ باسٹھ ہزار ایک سو گیارہ افراد پر مشتمل تھی۔  بہاولپور شہر کو  سترہ سو اڑتالیس میں عباسی خاندان نے بسایا تھا۔  بہاولپور کے ساتھ ہی چولستان کا صحرا منسلک ہے  اور وہیں پر لال سوہانرا نیشنل پارک ہے۔  بہاولپور  کا علاقہ دریائے سندھ کی قدیم تہذیبوں کا مسکن رہ چکا ہے۔ جبکہ اوچ شریف کو  بہاولپور شہر سے پہلے علاقے میں مرکزی مقام حاصل تھا۔

سترہ سو اڑتالیس میں  نواب بہاول خان اول نے شہر کی بنیاد رکھی۔  اس سے پہلے دڑاور  اس  عباسی قبیلے کا صدر مقام تھا۔  ابتدا میں بہاولپور ہندوستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی وجہ سے مقبول ہوا۔  سترہ سو پچاسی میں درانیوں  کے ہاتھوں شہر کو شدید نقصان پہنچا اور عباسی خاندان شہر کو چھوڑ کر دڑاور  کے قلعے میں پناہ گزین ہوگیا۔  تاہم 1802 میں عباسیوں نے درانیوں کو  زیر کرنے کے بعد ریاست بہاولپور کی بنیاد رکھی اور بہاولپور شہر کو اس کا صدر مقام قرار دیا۔  اٹھارہ سو سات میں  سکھوں نے سکھا شاہی کی بنیاد رکھی  اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں مسلمان ان سکھوں کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار ہونے لگے۔  تب نواب آف بہاولپور نے لٹے پھٹے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی۔  اسی دوران بہت سے قابل  علماء،  ہنر مند اور کاریگر  بھی ریاست بہاولپور اور بہاولپور شہر  میں پناہ گزیں ہو گئے اور شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ بٹانے لگے۔

اس زمانے کے نواب آف بہاولپور نے  انگریزوں کے ساتھ مراسم جوڑتے ہوئے سکھوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو مشترکہ کوششوں سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔   اٹھارہ سو تینتیس میں  انگریزوں نے بہاولپور کو ایک  خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔  اسی دوران انگریزوں نے دریاؤں کے رستے تجارت کو فروغ دیا  اور دریائے ستلج اور دریائے سندھ پر واقع ہونے کی وجہ سے ریاست بہاول پور کو دریائی تجارت میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔  اس دوران ریشم اور روئی کی تجارت کے حوالے سے بہاولپور انتہائی اہم حیثیت حاصل کر گیا۔

 اٹھارہ سو پچھتر میں بہاولپور کا نور محل تکمیل کو پہنچا۔  1886 میں  صادق ایجرٹن کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔   اٹھارہ سو اٹھانوے میں بہاولپور میں دو ہسپتالوں کی بنیاد رکھی گئی۔  1925 میں  عباسیہ یونیورسٹی بہاولپور کا قیام عمل میں لایا۔  گیا۔  انیس سو انتالیس میں چھڑنے والی جنگ عظیم دوم کے  دوران اس  وقت کے نواب  بہاولپور نے تاج برطانیہ کا پورا پورا ساتھ دیا جس کی وجہ سے تاج برطانیہ کے دل میں نواب آف بہاولپور کی قدرومنزلت بہت بڑھ گئی۔ انیس سو سینتالیس میں آزادی کے وقت ریاست بہاول پور کو ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دیا گیا۔  اس وقت کے نواب  جناب صادق محمد خان عباسی پنجم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔  آزادی کے بعد انیس سو اکتہر میں   قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کی بنیاد رکھی گئی۔

بہاولپور کپاس، گندم، چاول، سورج مکھی اور گنے جیسی ذرعی اجناس کے حوالے سے کافی مقبول ہے۔ بہاولپور میں امرود، آم اور کھجور  وافر پیدا ہوتے ہیں۔  اس کے علاوہ بہاولپور میں آلو، ٹماٹر،  گوبھی اور گاجروں کے ساتھ ساتھ  پیاز بھی بڑی مقدار میں اگتے ہیں۔  بہاولپور میں اس وقت بہت سی  چھوٹی بڑی صنعتیں بھی قائم ہوچکی ہیں۔  ان صنعتوں میں دھاگا و کپڑا سازی،  مختلف طرح کے  کیمیکل،  پولٹری، چینی اور ٹیکسٹائل سے وابستہ صنعتیں اہم ہیں۔

بہاولپور میں اگرچہ  مسلمانوں کی آبادی ہے لیکن کہیں کہیں کچھ ہندو خاندان بھی آباد ہیں۔  بہاولپور میں صوفیاء کا چشتی سلسلہ مقبول عام رہا ہے۔  بہاولپور میں سپورٹس اور کھیلوں کے لیے اسٹیڈیم بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔  کرکٹ کے لیے بہاولپور کا بہاول اسٹیڈیم موجود ہے۔ بہاولپور کے اہم  اشخاص جن میں سے بیشتر نے پاکستان اور دیگر ممالک میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ان میں ہاکی کے مشہور کھلاڑی سمیع اللہ، پاکستان کے فٹ بال کھلاڑی محمد عادل اور مشہور صحافی اور بی بی سی کی خاتون پروڈیوسر  دردانہ انصاری کے نام قابل ذکر ہیں۔ بہاولپور عرف عام میں نوابوں کے شہر کے نام سے بھی پاکستان اور دنیا بھر میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ 

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post