پاکستان میں شہری زندگی کی چمک دمک اور اس کی حقیقت Urban Life and Its Reality in Pakistan

Urban Life in Pakistan

Urban Life in Pakistan

شہری زندگی کی چمک دمک دور سے دیکھنے والوں کو بہت بھاتی ہے تاہم اگر ہم اس کو قریب سے جا کر دیکھیں تو شہری زندگی میں کچھ ایسے مضمرات شامل ہو چکے ہیں جو کہ قصباتی یا دیہاتی زندگی میں  عنکا ہیں۔ شہری زندگی میں مصنوعیت کا رنگ نمایاں ہے جہاں ہر چیز ایک ملمہ کاری میں چھپی نظر آتی ہے۔ تاہم عموما پاکستان میں اکثر شہری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہم کھل کر سانس لینے کے بھی مجاز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رہائشی آبادیوں کی ساخت  اور رہائش گاہوں کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ لوگ چھوٹے چھوٹے سے مکانات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ایک چھوٹے سے ڈربے میں کئی کئی خاندان رہائش پذیر ہوتے ہیں اور یہی حال اکثر شہری گلی محلوں کا ہے۔ مکانات کے قریب قریب ہونےاور شہری منصوبہ بندی کے شدید ترین فقدان کی وجہ سے پاکستان کے تقریبا تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نظام تنفس کے شدید ترین مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ مناسب مقدار میں سانس اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ یہ ایک کھلی سائنسی حقیقت ہے کہ جس جگہ پر لوگوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہ ملے وہاں پر لوگ عجیب و غریب سے وہم اور وسوسوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آکسیجن انسان کی دماغی و زہنی صحت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ جسمانی صحت کے لیے۔گرچہ شہروں میں سہولیات مصنوعی انداز میں فراہم کرنے کی اپنی سی کوشش تو کی گئی ہے تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس بات کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی انسانوں کی صحت و نشونما ضروری ہے، اور اس کے لئے مناسب انداز سے ہوا اور سینی ٹائیزشن کا گزر و عمل ہوتا رہنا چاہیے۔ تاہم کیونکہ پاکستان کے اکثر شہروں میں نظام تنفس کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کے مزاج چڑچڑے ہو چکے ہیں اور وہ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں اور اب یہ لڑائی جھگڑے تقریبا ہر گھر، محلے اور بازارکا معمول بن چکے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ شہری زندگی میں اکثر لوگ وہم اور وسوسے بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ آکسیجن کی شدید ترین کمی کی وجہ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سبط ہو چکی ہیں اور لوگ مناسب انداز سے حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے، حالات کو صحیح تناظر میں جانچنے اور مضبوط فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں یا تیزی سے ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب اگر ہم دیہاتی زندگی کو دیکھیں تو وہاں جسمانی اور ذہنی صحت مضبوط نظر آتی ہے تاہم وہاں سہولیات کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنی صحت کا رسک لیتے ہوئے شہروں کی پرتعیش زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post