ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے رخصتی اور اس کے پاکستان پر اثرات Departure of Trump from the White House and Its Implications on Pakistan

white house

white house

آج بیس جنوری ٢٠٢١ کا دن یقینا اس حوالے سے اہم ہے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ گزشتہ چار سال تک برسر اقتدار رہنے کے بعد آج کے دن کچھ وقت پہلے وائٹ ہاؤس کو خیر آباد کہہ چکے ہیں اور آج ہی کے دن اب سے کچھ وقت کے بعد نئے امریکی صدر جناب جوئے بائیڈن کی حلف برداری کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے بعد امید ہے کہ جمہوری رویوں کی آبیاری کے لئے جوبائیڈن کی جماعت ڈیموکریٹس کی فہم اور ویژن کے مطابق دنیا پر امن طریقے سے اپنا سفر آگے کی جانب بڑھائے گی۔تاہم اس وقت امریکہ کے لئے شاید سب سے بڑی ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے اندرونی اتحاد اور استحکام کی جانب مزید توجہ کرے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ کے اندرونی استحکام سے ہی موجودہ دنیا کا استحکام وابستہ ہے۔اگر کسی وجہ سے امریکہ فار رائٹ سپر فاشسٹس کے ہاتھوں کھلونا بن گیا تو اس کا مطلب سیدھا سیدھا یہ ہے کہ پوری دنیا کا امن غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بن گیا۔سو ٹرمپ کی وائٹ ہاوس سے رخصتی کسی حد تک انتہاء پسند اور غیر جمہوری قوتوں اور رویوں کی امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دنیا بھر میں پسپائی بھی ہے۔

اب امید یہ باندھنی چاہیے کہ دنیا میں پرامن جمہوری رویوں کی آبیاری ہو گی اور دنیا بھر میں صنعت و تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ باہمی امن، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو گا، اور امید کی جانی چاہیے کہ اس کا کلید بردار پہلے ہی کی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی رہے گا۔

Related Post