کیا دنیا میں تیسری بڑی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے؟ Is the World Heading Towards World War 3?

world war three

world war three

دنیا میں ناممکنات میں سے کچھ بھی نہیں۔ دنیا کے حالات بڑی تیزی اور سرعت سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ قوموں کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے اندرونی اختلافات بھی شدت کو پہنچ چکے ہیں۔ خطرناک ترین ہتھیاروں نے دنیا میں طاقت کا توازن تو برقرار رکھا لیکن اب یہی ہتھیار اختلافات اور کھینچا تانی کے اس دور میں انسانیت کے لیئے سب سے بڑا خطرہ ثابت بننے جا رہے ہیں۔ عروج پر پہنچی جماعتی اور غیر جماعتی گروہ بندیوں، وباوؤں، معاشی و سماجی بحرانوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی بہت سی طاقتور ریاستوں کو شدید ترین خلفشار سے دوچار کر دیا ہے۔

اس وقت امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں عراق اور افغانستان میں تعیانات رہنے والی افواج کی مجموعی تعداد سے ذیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ یہ اہلکار نو منتحب امریکی صدرکی تقریب حلف برداری میں حفاظتی اقدامات کے تناظر میں تعینات کئے گئے ہیں۔ امریکہ کے اندرونی حالات پچھلے کچھ ایام سے کافی انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر نومبر ٢٠٢٠ میں ہونے والے صدارتی انتحابات میں گزشتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ کی شکست کے بعد بعض عناصر کی جانب سے انتحابی نتائج پر عدم اعتماد کے باعث سیاسی پارہ کافی اوپر جا چکا ہے۔

امریکہ کے پائے کی دنیاوی سپر پاور کے اندرونی اختلافات کا اس نہج پر آ چکے ہیں کہ حالات پر قابو پانے کے لئے انتہائی غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ امریکہ یا کسی بھی ایٹمی طاقت کے خلفشار کا شکار ہونے کا مطلب سیدھا سیدھا یہ ہے کہ پوری دنیا خطرے میں آ رہی ہے کیونکہ ایک محدود ایٹمی جنگ کا مطلب بھی دنیا کی تباہی ہے۔ وہ کچھ اس طرح سے کہ طاقت و غلبہ کے حصول کے لئے اگر کوئی غیر ریاستی عنصر کسی بھی ایٹمی ریاست کے رٹ کو کمزور پڑتا دیکھ کر ان ہتھیاروں پر حصول کی تگ و دو میں لگ جائے تو اس سے دنیا کے تمام پر امن اور بے گناہ لوگ بھی شدید تباہی اور خطرے کا شکار بن جائیں گے۔

یہ دراصل اقتدار اور طاقت کی ہوس ہی ہے جس کے باعث مختلف گروہ اپنے کو طاقتور ثابت کرنے اور دوسرے کو کمزور کرنے اور نیچا دکھانے کی ٹھانے بیٹھے ہیں۔ اس تمام تر تناظر میں اور غیرمعمولی حالات سے نکلنے کا واحد حل جو نظر آ رہا ہے وہ الکتاب یا سماوی کتاب میں پنہاں ہے۔ وہ اس طرح سے کہ جس کا جو حق سماوی کتاب میں مقرر فرمادیا گیا اس پر رجوع کرتے ہوئے امانت حقدار کے سپرد کر دو۔ ساتھ ہی ساتھ سماوی کتاب میں جو ذمہ داریاں جس جس پر اور جیسے جیسے مقرر ہیں، وہ ان ذمہ داریو ں کو پورا کرے۔ اس طرح سے جب ہم بحیثیت انسانیت اللہ کی جانب سچے دل سے رجوع کر لیں گے تو انشاءاللہ ہم اللہ کو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا پائیں گے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post