ٹرمپ کے خلاف 2021 میں مواخذے کی کاروائی کا ممکنہ اقدام Possible Trump Presidential Impeachment Move 2021

trump capitol hill attack

trump capitol hill attack

امریکہ میں دو جماعتی نظام نافذ ہے۔ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ اپنے اختیارات آنے والے صدر جناب جوبائیڈن کو 20 جنوری کو منتقل کریں گے کے مواخذے کی بازگشت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ جو بائیڈن ڈیموکریٹس کی طرف سے انتخاب کے لیے پیش کیے گئے صدر ہیں۔ جوبائیڈن نے حال ہی میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ چھ جنوری کو ان کی صدر کے طور پر توثیق کر دی گئی ہے۔ جبکہ صدارتی اختیارات کی منتقلی کا عمل 20 جنوری کو مکمل ہوگا۔

تاہم چھ جنوری 2021 کو جس دن جوبائیڈن کی صدارتی توثیق کا عمل وقوع پذیر ہونا تھا اسی دن ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل کی عمارت جو کہ امریکہ کی صدارتی پارلیمنٹ متصور ہوتی ہے وہاں پر دھاوا بول دیا۔ اس وجہ سے توثیقی کارروائی کا عمل روکنا پڑ گیا۔ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور کرفیو کے دوران جو بائیڈن کی صدارتی توثیق کا عمل مکمل ہوا۔ تاہم اس سارے عمل کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں کی اس شرمناک حرکت کی وجہ سے پوری دنیا میں امریکہ اور جمہوریت کی جگ ہنسائی کا سامان پیدا ہوگیا جو کہ تمام جمہوریت پسند لوگوں کے لیے قابل افسوس ہے۔

امریکہ میں اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ ہجوم ٹرمپ کے اکسانے پر آیا تھا اور اس پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جائے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کی اکثریت اس بات کی حامی نظر آتی ہے کہ اس شرمناک حرکت پر ٹرمپ کا مواخذہ کیا جائے۔ تاہم نو منتخب صدر جناب جوبائیڈن اور  ڈیموکریٹس پارٹی کے دیگر کچھ ارکان اس مواخذے کی کاروائی کے حق میں تاحال نظر نہیں آتے اور ان کے خیال میں اس مواخذے کی کارروائی سے امریکہ میں تقسیم در تقسیم کا عمل تیز ہو جائے گا۔ تاہم کارروائی کے حق میں رائے رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اگر اس طرح سے انتہا پسند ہجوم کو لگام نہ دی گئی اور انہیں قانون کے تابع نہ کیا گیا تو مملکت کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ جائیں گے۔

یہ فیصلہ تو امریکہ کے ارباب اختیار نے ہی کرنا ہے کہ آیا مواخذے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے یا نہ بڑھائی جائے تاہم اس وقت امریکہ ایک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ کون سی راہ اپنائی جائے۔ تاہم یہیں سے کسی بھی ریاست اور مملکت کی لیڈر شپ اور قیادت کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ مشکل حالات میں کتنا درست فیصلہ کر سکتی ہے۔ قیادت کے پاس بہت سے آپشن ہوتے ہیں اور ان میں سے درست آپشن کا انتخاب ہی ریاست کو ناکامی کا دو چار ہونے سے بچا سکتا ہے اور غلط آپشن کا انتخاب تخت کو تختہ بنا سکتا ہے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post