کیا اصل دین دار وہ ہیں جنہوں نے دینداری کا روپ اوڑھا ہو؟ Are the Pious Those Who are in a Saintly Getup?

Islam

Islam

میڈیا اور فلموں وغیرہ پر ایک ٹرینڈ عام ہے کہ ایک سو کالڈ حقیقی مسلمان کا بہروپ جس اداکار کو دیا جاتا ہے اسے عموما لمبا چوغہ، داڑھی اور عمامہ وغیرہ تو اڑھوا دیا جاتا ہے لیکن اس کردار میں سے اسلام کی حقیقی روح کو عنقاء کر دیا جاتا ہے۔کسی بھی دین کی حقیقی پہچان ظاہری روپ کی بجائے اس دین کی تعلیمات ہیں جن تعلیمات سے ہی اس دین کے ماننے والوں کا ظاہری روپ بھی واضح ہوتا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ادیان ہیں تو ان ادیان کی تعلیمات کیا ہیں اور ان تمام تعلیمات کے اصل مقصد کیا ہے؟
تمام ادیان کی تعلیمات بنیادی طور پر دو باتوں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے گردا گرد گھومتی ہیں۔ حقوق اللہ سے عبادات کی تعلیمات کا تعین ہوتا ہے۔ جبکہ حقوق العباد سے معاشرے میں رہنے والوں تمام افراد کے حقوق اور ان سے وابستہ ذمہ داریوں کا تعین ہوتا ہے۔ حقوق اللہ تو اللہ پاک چاہے تو معاف فرما دیں گے جبکہ حقوق العباد بندوں کے حقوق ہیں جن کو ہر صورت پورا کرنا ہے اور نہ کرنے کی صورت میں جس بندے کے حقوق ہیں وہی انہیں معاف کر سکتا ہے۔
کسی بھی دوسرے دین کے ماننے والوں کی مانند حقیقی مسلمان وہ نہیں جس نے بظاہر تو بہروپ مسلمانوں والا اپنا لیا ہو لیکن ایسے شخص کا دل جھوٹ اور کذب کے لا تعداد بتوں سے مزین ہو۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کا دل دین اسلام کی تعلیمات سے مزین ہو جن تعلیمات سے وہ شخص یہ جان لے کہ حقیقی حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں۔ اور جس بھی معاشرتی فیصلہ سازی کی سطح پر اس کا کوئی بھی کردار بنتا ہو اس شخص کے تمام فیصلوں میں ان حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی اچھے و موثر طریقے اور تدبر سے ہو رہی ہو۔
ایک اسلامی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں معاشرے کے اعلی فیصلہ ساز لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی روشنی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے نظام کو باقاعدہ طور پر اسلامی معاشرے میں رائج کریں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے حقیقی تعین سے ہی معاشرے میں انصاف کے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور ہر طرح کے رائج نظام کی راہیں متعین ہوتی ہیں۔ جب اسلامی معاشرے میں معاشرے میں موجود تمام افراد کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک نظم اور سماج کے تحت زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے تو معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے اور غالبا اسی وجہ سے اسلام کو سلامتی، امن اور انصاف کا دین قراد دیا گیا ہے۔
ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دین اسلام میں کوئی جبر نہیں۔ سو، ایک اسلامی معاشرے میں رہنے والے غیرمسلم اپنی اپنی سماوی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو اپنے تمدن اور معاشرت کے اصولوں کے تحت گزارنے میں آزاد ہیں۔ تاہم مختلف تہاذیب و تمدن اور مذاہب کے لوگوں بشمول مسلمانوں پر ایک اہم ترین اصول جو کہ لاگو ہوتا ہے وہ یہ کہ کسی دوسرے دین اور تہذیب میں مداخلت اور ان کا تمسخر اور ٹھٹھہ لگانے کی اجازت نہیں۔ ایک دوسرے کے سماج کے احترام سے ہی دین اسلام یعنی دین امن، سلامتی اور دین انصاف کے حقیقی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ ہاں اگر تقابل دین کی بحث بھی ہو تو اس میں بھی مقصد اللہ کی سماوی پیغام کی اصل روح اور معاشرے کو امن و انصاف کے حقیقی تقاضوں سے بھرنا ہو اور اس مقصد کے لیے اپنے پاس موجود سماوی اصولوں کا دیگر تہاذیب و ادیان کے افراد کے ساتھ تبادلہ کرنا ہو۔ پھر اگر کسی کو دین اسلام کے امن و انصاف کے اصول تقابلتا دیگر ادیان سے بہتر لگیں تو وہ انہیں مکمل طور پر بھی اپنا لیں لیکن اس میں جبر کا کسی بھی قسم کا کوئی پہلو نہ نکلے بلکہ امن و انصاف کی تعلیمات و زندگی کے اعلی ترین اور پاکیزہ ترین اصولوں کا ہی تبادل و تقابل ہو اور انہیں کو راہنما بنایا جائے۔

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post