ترکی جانے کے دو خطرناک راستے جن کے ذریعے سے سفر جان لیوا ہے Two Deadly Ways to Turkey that Must Avoid

turkey travel

turkey travel

مالی اور معاشرتی حالات سے تنگ اکثر افراد باہر جانے کو راہِ نجات سمجھتے ہیں کیونکہ ان ممالک میں کام کرنے کے مواقع اور اجرت زیادہ ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں غربت کی زیادتی کی وجہ اکثریت باہر جاکر لیبر کرنے پر مجبور ہے۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کے ہوتی ہے جو کہ کم پیسوں میں ایجنٹس کے ہاتھوں غیرقانونی طریقوں سے دوسرے ممالک میں جاتے ہیں۔ پاکستان سے لوگ غیرقانونی طریقےسے (ویزہ کے بغیر) تقریبا تمام ترقی یافتہ ممالک میں جاتے ہیں۔ جن میں دوبئی، سعودیہ اور ترکی سرفہرست ہیں۔ آج ہم آپکی معلومات کے لیئے ترکی جانے والے دو غیرقانونی طریقوں پر تفصیل سے بات کریں گے۔اسکا مقصد صرف اور صرف لوگوں کو ان راستوں کے متعلق آگاہ کرنا ہے جو آپکو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں۔ایک راستہ کراچی کی طرف سے جاتا ہے۔ کراچی کی طرف سے آپ سمندرکے راستے کشتی کے ذریعے جاتے ہیں۔ اس کشتی کی رفتار بہت زیادہ کم ہوتی ہے اور زیادہ افراد ہونے کی وجہ سے اس میں کھانے پینے کا سامان بہت کم مقدار میں رکھا جاتا ہے اس طریقے سے جانے والے اکثرلوگ خوراک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یا پھر اوور لوڈنگ کی وجہ سے کشتی سے الٹ جانے کے واقعات ہوتے ہیں۔دوسرا راستہ جو پنجگور اور تفتان کی طرف سے جاتا ہے وہاں سے ڈالوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔ اس میں بھی آپکو ایک لمبا صحرا عبور کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ بھی بے حد لمبا ہے۔ راستہ سارا بیابان ہے۔ کہیں کہیں آپ کو کچے کچے سے کچھ مکان نظر اتے ہیں جن کے ساتھ کھجوروں کے درخت ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو دور دور تک بیابان ہوتا ہے۔ ایجنٹس اکثر پیسہ لیتے وقت یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کا بہت خیال رکھا جائے گا، رہائش اور نوکریوں کے بلند وبانگ دعوے کیئے جاتے ہیں لیکن حالات اس سے بہت برعکس ہیں۔ان دونوں راستوں کو عبور کرنے کے بعد آپ ایران پہنچتے ہیں۔ ایران کے بارڈ پر آپکو اتارا جاتا ہے اور اس کے بعد آپ کو ترکی پہنچنے کے لیئے ایران کے آخری کونے تک سفر کرنا ہوتا ہے یہاں سے ایک اور جان لیوا سفر کا آغاز ہوتا ہے چونکہ آپ غیرقانونی طریقےسے آتے ہیں اسلیئے چیک پوسٹوں سے بچانے کے لیئے آپکو گاڑیوں کی ڈگیوں میں سفر کروایا جاتا ہے یا پھر کنٹینروں کے ذریعے لایا جاتاہے۔ ان دونوں راستوں میں موت کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور بہت سی اموات ہوتی بھی ہیں۔ اسلیئے ہمیشہ قانونی راستہ استعمال کریں۔#ترکی ویزا کی معلومات

Related Post