قحط الرجال کیا ہوتا ہے؟ When The Land Becomes Barren from True Men

True Leader

True Leader

قحط سے مراد ہے قلت اور رجال سے مراد ہے مرد۔ قحط الرجال کا مطلب دراصل یہ ہے کہ معاشرے سے مردوں کی قلت ہو جانا۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معاشرے سے مرد ذات ہی ختم ہو گئی ہے بلکہ قحط الرجال سے مراد یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی ایسا فرد یا مرد صالح نہیں جو کہ بہادر مردوں کی طرح اپنی قوم کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کرسکے۔ جب کوئی بھی قوم آفاقی اصولوں سے ہٹ جاتی ہے اور بدی اور غیر اخلاقی وغیر سماجی برائیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اللہ کی طرف سے اس قوم میں قحط الرجال نازل کر دیا جاتا ہے۔قحط الرجال دراصل رب تعالی کی جانب سے کسی قوم پر اس کی کوتاہیوں اور بے عملیوں کی وجہ سے عذاب کی ایک ایسی صورت ہوتی ہے جس میں اس قو م میں سے بہترین فیصلہ ساز لوگوں کا وجود ختم ہو جاتا ہے اور وہ قوم بہترین فیصلہ ساز لوگوں کے پیدا کرنے کے عمل سے بانجھ ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل آفاقی اصولوں اور ضابطوں کو توڑنے کی سزا ہوتی ہے کہ وہ قوم دور اندیشی اور عقلمندی کی صفات سے محروم کر دی جاتی ہے۔ ایسی قوم درست جانب اور حق کی جانب رہنمائی سے محروم کردی جاتی ہے۔اور نہ ہی اس قوم میں کوئی مرد رجل پیدا ہونے کا امکان نظر آتا ہے یا رب تعالی کی طرف سے کوئی بطل جلیل بھیجا جاتا ہے جو اس قوم کو حق اور سچ کی جانب رہنمائی کرے۔ یہ کسی بھی قوم کی اپنے ہی اعمال کی سزا ہوتی ہے کہ وہ سچائی، حق اور ایمانداری کے ساتھ ساتھ دور اندیشی اور مضبوط فیصلوں کی صلاحیت سے محروم کر دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی غیرقوم آکر ان کو اپنا مطیع و غلام بنا سکتی ہے۔ جو قوم آفاقی اصولوں سے انحراف کرنا شروع کر دیتی ہے اور اپنی ان بد اعمالیوں پر راسخ ہوجاتی ہے تو پھر آفاق کی طرف سے بھی غیر قوموں کی غلامی اور غیر قوموں کے ضابطوں کی پابندی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔اگر ہم پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو کیا ہم بھی اپنی بداعمالیوں میں اتنے راسخ اور آگے تو نہیں نکل گئے کہ آفاق کی طرف سے قحط الرجال کے عذاب میں مبتلا کر دیا گئے ہیں اور میدان عمل میں کوئی بھی ایسا شہہ سوار نظر نہیں آ رہا جو مملکت خداداد کی ڈوبتی کشتی کو پار لنگھا سکے۔ ہم ایک صالح قیادت سے محروم قوم بن چکے ہیں کوئی بھی مرد صالح اور مرد رجل کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا جو کہ ہماری حق، سچ، دیانت اور دیگر تمام آفاقی اصولوں کی جانب مضبوط و مسمم رہنمائی کے ساتھ ساتھ حق اور سچ پر چلنے کے عمل کو ممکن بنانے میں ہمارا قوت بازو بن سکے۔ 

Author

  • Freelance Accountant, Full Charge Bookkeeper, Financial Analyst, and Ex Banker with 15 Years of Professional Experience. Also a Blogger...

Related Post